Your Pakistan

Long Live Pakistan, God Bless Pakistan – Latest News Updates

آپریشن اور اس کے نتایئج

Posted by yourpakistan on May 30, 2014


PAKISTAN-POLITICS-MUSHARRAF

بروز بدھ ٢١مئ کو پاک فضائہ کی جانب سے شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئ۔ جس کے نتیجے میں ٨٠ کے قریب مقامی اور غیرملکی شدت پسند ہلاک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ان حملوں میں ازبک کمانڈر ابو احمد، کمانڈر قانونی، کمانڈر گلمند، کمانڈر جہاد یار، موسٰی خان محسود، صابر محسود اور دختر محمد سمیت کئ اہم کمانڈر جاں بحق ھوئے۔

صابر محسود جو ان دنوں خودکش بمباروں کے عمل و حرکت اور تربیت کا ذمہ دارتھا، اس سے پہلے آئ ایس آئ کے سابق ایجنٹ خالد خواجہ، کرنل امام اور برطانوی صحافی اسد قریشی کے اغواء میں بھی ملوث رہا۔

ان تین اشخاص کے اغواء کی ذمہ داری ایشین ٹائگر نامی تنظیم نے قبول کی۔ اس تنظیم کی داغ بیل صابر محسود نے اپمے دوست عثمان پنجابی عرف عمر کے ساتھ ملکر رکھی۔ ایشین ٹائگر میں زیادہ تر افرادی قوت لشکرجھنگوی کے کارکنوں کی تھی۔

اس اغواء کے دوران عثمان پنجابی ایشین تائگر کے ترجمان کے طور پر منظرعام پر آیا۔ عثمان نے عبداللہ منصور، جو کے لشکرجھنگوی العالمی کا سربراہ تھا، کے ساتھ ملکران تین اشخاص کو ڈاکیومنٹری کی عکسبندی کے دھوکے سے بلا کر اغواء کیا۔ اس اغواء کے تقریباً ایک مہینہ بعد خالد خواجہ کو قتل کردیا گیا۔ خالد خواجہ کے بیٹے نے اپنے والد کی موت کا ذمہ دار حامد میر کو ٹہرایا۔ ان کے مطابق حامد میر کی ایک فون کال خالد خواجہ کے قتل کا باعث بنی۔ جس میں حامد میر نے عثمان پنجابی کو وزیرستان میں فوج کی متوقع نقل و حرکت کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ اور بتایا تھا کے خالد خواجہ کا تعلق سی آئ اے سے ہے۔ اس بات چیت کے فوراً بعد ہی اغواءکاروں کی جانب سے خالد خواجہ کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

کچھ عرصے بعد ڈانڈے درپہ خیل، شمالی وزیرستان کے علاقے میں محسود قبیلے اور عثمان پنجابی کے درمیان ایک عرب جنگجو کی بیوہ پر تنازع کھڑا ہوا۔ اور نتیجتاً عثمان پنجابی اپنے پانچ ساتھیوں سمیت صابر محسود کے ہاتھوں مارا گیا۔ صابر محسود اور حکیم اللہ کے تعلقات جو پہلے ہی کشیدہ تھے اس واقعے کے بعد مزید تناؤ کا شکار ہو گئے۔ بعض اطلاعات کے مطابق حکیم اللہ محسود کی جانب سے صابر محسود کو مارنے کی ناکام کوشش بھی کی گئ۔

عثمان کی موت کے اگلے ماہ اسد قریشی کو بھاری تاوان کے عوض رہا کر دیا گیا۔ جبکہ کرنل امام کی رہائ کے لئے حکیم اللہ محسود نے حکومت سے مذاکرات شروع کئے۔ جو شرائط پیش کی گئیں ان میں تاوان سمیت سرفہرست شرط زیرحراست طالبان جنگجؤں کی رہائ تھی۔ مذاکرات کامیاب ہوتے نظر آ رہے تھے اور غالب گمان یہی تھا کے کرنل امام کو بھی تاوان کے بدلے رہا کر دیا جائیگا۔ لیکن مذاکرات کے دوران ہی کرنل امام کو شہید کر دیا گیا۔

حالیہ فضائ حملوں میں جہاں اہم کمانڈروں سمیت متعدد مقامی اور غیرملکی دہشتگرد ہلاک ہوئے وہیں کچھ عام شہریوں کے جانی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئ ہیں۔ گو کہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائ حملے مہینوں کی تیاری اور ١٠٠٪ انٹیلیجنس اطلاعات کے بعد کئے جاتے ہیں پھر بھی نقصانات کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ ان سولین ہلاکتوں کے لئے پوری طرح پاک فوج کو موردالزام ٹہرانا صحیح نہیں۔ وزیرستان میں پولیٹکل انتظامیہ کی نااہلی کے باعث عام شہری دہشتگردوں کو اپنے درمیان جگہ دینے پر مجبور ہیں۔ ایسی صورتحال میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں اور شہریوں کی رہائش کے درمیان تفریق کرنا انتہائ مشکل کام ہے۔ ایک رجحان یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کے فوج کی جانب سے دہشتگری کے ٹھکانوں کی تباہی کے فوراً بعد ہی ٹی ٹی پی کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے مختلف ممالک کے مناظر کو فوج کے حملوں سے منسوب کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ پیش کی جانے والی اکثر تصاویر حقیقت سے دور اور سراسر گمراہ کن ہوتی ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: