Your Pakistan

Long Live Pakistan, God Bless Pakistan – Latest News Updates

وہی بت فروشی وہی بت گری ہے

Posted by yourpakistan on January 30, 2014


Pakistan Idol What a Shame

میں ایک پاکستانی ہوں، ٹی وی پر چلنے والے ایک اشتہار نے مجھے حیران کر رکھا ہے، اور کچھ لوگ بہت شاد بھی ہیں اسے دیکھ دیکھ کر مختلف کمپنیاں ایک شو کے لیے تعاون کر رہی ہیں جس کا نام ہے “پاکستان آئیڈل”۔

“ارے کیا کہا؟ آئیڈل؟” آواز پاس ہی سے آئی تھی اور خاصی محظوظ لگ رہی تھی اس لفظ سے۔ “یہ وہی آئیڈل ہے نکمے اور کام چور والا؟”

“ارے نہیں بھئی دوسرا والا آئیڈل ہے۔” میں نے جھنجھلا کر کہا تھا۔

“آئیڈل یعنی کہ بُت؟ ارے بھئی پاکستان میں تو مجسمہ سازی کی اجازت نہیں تھی، بہر حال اب بن رہا ہے تو کس کا؟ علامہ اقبال کا یا قائدِ اعظم کا؟”

“کسی کا مجسمہ نہیں بن رہا جناب، یہ مختلف کمپنیاں مل کے ایک شو کر رہی ہیں، پاکستان کا چُھپا ہوا ٹیلنٹ ڈھونڈیں گی!”

“اچھا اچھا، کہاں چُھپا ہوا ہے یہ ٹیلنٹ؟ کیا سائنسدان آئیں گے یا ہونہار طلباء؟”

اس سوال نے مجھے جی بھر کے بے مزہ کیا تھا۔ “جی نہیں حضورِ والی، گلوکاری کا چُھپا ہوا ٹیلنٹ!”

“اچھا۔” آواز کچھ بُجھ سی گئی تھی۔ “اور لوگوں کا کیا ردِ عمل ہے اس پر؟”

“ارے کیا پوچھ لیا آپ نے، لائنیں لگی ہوئی ہیں آڈیشن کے لیے۔ اور اگر کوئی رد ہو جائے تو سوشل میڈیا پر انصاف کی فریاد لے آتا ہے اور موبائل کمپنیاں مفت آڈیشن کی سہولیات بھی دے رہی ہیں فون پر۔”

“اس سے ایک بات تو ثابت ہو گئی۔” اب کے مایوسی سے جواب آیا تھا۔ “ایک قیمتی چیز ایسی ہے جو یہاں بڑی بے مایہ ہے اور ہماری قوم بے دردی سے اسے لُٹا رہی ہے، جبکہ دوسری قومیں اس چیز کو بہت سینت سینت کر رکھتی ہیں اور سوچ سمجھ کر خرچ کرتی ہیں۔”

“اس میں اتنی مایوسی کی کیا بات ہے کہ ہم کوئی قیمتی چیز خرچ کر رہے ہیں؟ یہ تو فخر کی بات نہیں؟! بہر حال ایسی کیا چیز ہے وہ؟”

یک لفظی جواب آیا: “وقت!”

میری خاموشی بھری شرمندگی پر اگلا سوال داغا گیا: “ویسے جتنا پیسہ اس پر اجاڑا جائے گا وہ ‘ذرا سوچیے’ والے بھائی صاحب کو کیوں نہیں دے دیتے؟ تعلیم میں ترقی تو ہو جائے گی۔ اور جب یہ آئیڈل مل جائے گا تو یقینا ہم پھر اپنی حکومت کے سر ہو جائیں گے کہ بڑی کرپٹ ہے اور پتہ نہیں ہمارے کن گناہوں کی سزا مل رہی ہے ہمیں، وغیرہ وغیرہ۔”

“کیوں نہ کہا جائے؟” مجھے جوش آ گیا تھا۔ “ان کے طرزِ حکمرانی میں کیا خوبی ہے جو ان کی مذمت نہ کی جائے؟”

“وہی خوبی جو ہماری عوام میں ہے!”

“کیا مطلب؟” میں نے نا سمجھی سے پوچھا تھا۔

“ہم اپنی تاریخ میں بہترین حکمران کس کو مانتے ہیں؟”

“حضرت عمر بن خطاب کو۔” میں نے فوری جواب دیا تھا مگر ساتھ ہی تنبیہ بھی جاری کر دی تھی: “یہ مت کہنا کہ ہماری حکومت کی کوئی بات حضرت عمر کے طرزِ حکمرانی سے ملتی ہے!”

“نہیں، مگر حضرت عمر کے دور میں مثالی حکمرانی میں حضرت عمر کے کردار کے علاوہ بھی ایک بات تھی جو بے حد اہم تھی اور آج نا پید ہے۔”

“مجھے اتنی پہیلیاں پسند نہیں۔” میں نے اپنی شرمندگی چھپانے کو منہ بنا کر کہا تھا۔

“حضرت عمر نے ایک بار بھرے مجمع سے پوچھا: “لوگو! اگر تم دیکھو کہ میں خدا کی راہ سے ہٹ گیا ہوں اور کج ہو گیا ہوں تو تم کیا کرو گے؟” مجمع میں سے ایک جوان کھڑا ہوا اور تلوار نکال کر بولا: “ہم تمہیں سیدھا کر دیں گے!” حضرت عمر نے اسے آزمانے کو پوچھا: “تم نے میری شان میں یہ الفاظ کہے؟” اس جوان نے جواب دیا: “ہاں، تمہاری شان میں!” حضرت عمر نے جواب دیا: “الحمدللہ! ابھی کچھ لوگ ہیں کہ میں کج ہو جائوں تو مجھے سیدھی راہ دکھا دیں۔” یہ اس رعایا کا ‘کردار’ تھا جس پر حضرت عمر نے حکمرانی کی ،اور ویسے بھی یہ تو حدیث شریف ہے کہ جیسی عوام ویسے حکمران!”

شرمندگی کے مارے مجھے کوئی جواب نہ سوجھا تو میں نے کہا: “اس سے ہماری میوزک انڈسٹری کو نیا عروج حاصل ہو گا، دنیا میں اچھا امیج جائے گا ہمارے ملک کا۔”

“واقعی؟” اب کے اس آواز میں سنجیدگی تھی۔ “وہ قومیں جن پر خدا کا عذاب آیا یا ان سے ناراضگی کا اظہار کیا گیا، ان کا کیا وطیرہ تھا؟ کبھی تاریخ پڑھی؟ غور کیا؟”

“زیادہ علامہ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔” میں نے ناراضی سے جواب دیا تھا۔ “پتہ ہے مجھے کہ وہ کافر تھے، مگر یہ ملک تو مسلمانوں کا ہے اور اب مُلّا بن کے یہ مت کہنا کہ موسیقی حرام ہے وغیرہ وغیرہ۔”

رسان سے جواب آیا: “ان قوموں کا وطیرہ یہ تھا کہ انہوں نے ایک ایسے کام میں عروج حاصل کیا تھا جو خدا کو نا پسند تھا، جیسے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم تصویر کشی اور بت گری میں ماہر تھی، بنی اسرائیل جادوگری میں یدِ طولی رکھتے تھے اور ایک قوم علم الاعداد میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی۔ اور اب ہماری قوم کہاں عروج حاصل کرنا چاہ رہی ہے؟”

“نہیں آتا ہم پر کوئی عذاب، اور کیا فرق پڑ جائے گا حکومت کواور اس ملک کی ترقی کو؟ چلو ہمسایوں کی مثال سے تو تمہیں ویسے ہی الرجی ہے، امریکن آئیڈل بھی تو ہوا تھا، کتنا فرق پڑ گیا ان کی ترقی کو؟” میں نے بہت جارحانہ انداز میں جواب دیا تھا اور سوال داغا تھا ،آج اس آواز سے ہارنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

“حمایت ڈھونڈی بھی تو کہاں سے، مثال دی بھی تو کس کی؟! وہاں سے مثال کیوں نہیں ڈھونڈتے جہاں وعدہ کیا گیا ہے کہ اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر کے اتارا گیا ہے، تو ہے کوئی جو ہدایت پائے؟”

“قرآن میں پاکستان آئیڈل کے بارے میں بھی کچھ ہے؟” مجھے شدید حیرت ہوئی تھی۔ “کیا لکھا ہے؟”

“تو کیا یہ کافر سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی بنا لیں گے؟ بیشک ہم نے انکار کرنے والوں کی مہمانی کو جہنم تیار کر رکھی ہے۔ تم کہو! کیا ہم تمہیں بتا دیں سب سے ناقص عمل کس کے ہیں؟ ان کے جن کی ساری سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی، اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے، اور ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی تول قائم نہ کریں گے۔”

میرا سر شرم سے جھکا ہوا ہے، میں لا جواب ہوں اور بے حد شرمندہ  بھی.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: