Your Pakistan

Long Live Pakistan, God Bless Pakistan – Latest News Updates

اوبامہ کے آنسو اور ہمارا بے تاب میڈیا

Posted by yourpakistan on November 17, 2012


تحریرآمبرین اعجاز

آج کل میری کوشش ہوتی ہے کہ اخباری چینلز نہ ہی دیکھے جائیں۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے جینا کبھی کبھی اچھا لگتا ہے۔ لیکن پچھلے دو دنوں سے میں نے دوبارہ اخباری چینلز دیکھنے شروع کر دئے کہ شاید کوئی تبدیلی آ گئی ہو۔ ان دو دنوں میں، میں نے ایک خبر نہ صرف دو بار ٹی وی پر سنی، بلکہ آج صبح کے اخبار میں بھی پڑھ لی ہے۔ خبر یہ ہے کہ کس طرح صدر اوبامہ اپنی انتخابی مہم چلانے والے کارکنوں اور نوجوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ ٹی وی چینلز نے تو باقاعدہ فوٹیج بھی چلایا لیکن اخبار والوں نے نہ جانے کیسے تصویر کے بغیر صرف خبر نشر کرنے کی گستاخی کر لی۔ یہ صدر اوبامہ وہی ہیں جن کے اشارے پر ڈرون اڑتے ہیں اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزام میں معصوم بچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ وہی اوبامہ ہیں جن کی بدولت افغانستان کے باسی آج تک میٹھی نیند سے محروم ہیں۔ یہ اوبامہ وہی ہیں جن کے اشارے پر لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ یہ وہی اوبامہ ہیں جنہوں نے کبھی فلسطین کے مظلوموں کو خون کے آنسو رلائے، تو کبھی عراق، لیبیا اور افغانستان کے ننھے شہزادوں اور شہزادیوں کو۔ مگر ہمارا بے بس اور لاچار میڈیا، پیسے اور شہرت کی ہوس میں اس قدر اندھا ہو چکا  کہ اس کو اوبامہ کے آنسو تو نظر آ گئے، مگر۔۔۔

تب سے میں اس سوچ میں مبتلا ہوں اور یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ کتنی بار میں نے ٹی وی پر یا اخبار میں کوئی ایسی خبر دیکھی ہے کہ “ڈرون سے ہلاک ہونے والے بچے کی ماں اپنے بیٹے کی لاش دیکھ کے ہوش وحواس کھو بیٹھی۔” یا ایسی ماؤں کی کوئی فوٹیج کبھی آپ نے دیکھی ہے؟ یا پھر ایسے والدوں کی جن کے کاندھے اپنے لخت جگر کھونے کے بعد جھک گئے ہیں؟ ساری دنیا میں مسلمان ظلم وستم کا شکار ہیں، ہتھیار اور طریقہء کار مختلف ہوں تو ہوں، لیکن تکلیف ہر جگہ ایک جیسی ہے۔ کہیں ڈرونز سے بچے مر رہے ہیں تو کہیں بھارتی درندے میری بہنوں کے دوپٹے چھین رہے ہیں، کہیں گوانتنامو میں معصوم مسلمان تشدد سے پاگل ہو رہے ہیں تو کہیں مسلسل حالت جنگ میں رہنے سے فلسطینی، افغانی اور عراقی لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی اذیتیں اور آہیں کیوں خبریں نہیں بنتیں؟ برما میں ہونے والے ظلم وستم کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے تو زمین آسمان ایک کر دئے تھے ہمارے میڈیا نے، لیکن پوری دنیا کے ٹھیکیدار بننے والے اور خود کو پارسا سمجھنے والے امریکہ یا خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے والے بھارت کے کارناموں کی پول کھولنے میں کیوں ہمارا میڈیا پیچھے ہے؟ بہ حیثیت ایک عام پاکستانی شہری کے مجھے اس بات سے غرض نہیں کہ صدر  خوشی اوبامہ رو پڑے، مجھے اپنے مسلم اور پاکستانی بہن بھائیوں کی فکر ہے۔ اور اس فکر کے باوجود مجھے یقین ہے کہ صدر اوبامہ کو یہ چار سال صرف اس لئے ملے ہیں کہ ان کےخوشی کے آنسو غم کے آنسوؤں میں بدل سکیں۔ بہ حیثیت ایک عام شہری کے میں یہ پیغام صدر اوبامہ تک پہنچا دینا چاہتی ہوں کہ وہ نوشتہء دیوار پڑھ لیں۔ افغانستان میں شکست نہ  خوشی  صرف ان کا مقدر ہے بلکہ شاید ان کا تمغہ بھی جو صدر اوبامہ ساری زندگی اپنے سینے پر جمائے بیٹھے رہیں گے۔ اور جب شکست مقدر ہو چکی ہو تو آنسو بہانے ہر کوئی پونچھنے والا بھی میسر نہیں ہوتا، خواہ وہ امریکہ کا بے مہر میڈیا ہو، یا ہمارے وطن عزیز پاکستان کا “آزاد” میڈیا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: